اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تہران کی بین الاقوامی امور کی عدالت کی شاخ 55 کے سربراہ جج مجید حسین زادہ نے بتایا کہ امریکا کے خلاف 771 ای بی کے مریضوں کی جانب سے دائر مقدمے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے امریکی ملکیت کی تیل کی کھیپ ضبط کرکے فروخت کردی گئی ہے۔
یہ مقدمہ ایران میں ای بی کے مرض میں مبتلا 771 مریضوں اور عوامی ادارے ’’ہاؤس آف ای بی‘‘ کی جانب سے امریکی حکومت اور اس کے عہدیداروں کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ مقدمے میں امریکی پابندیوں کے نتیجے میں خصوصی طبی پٹیوں، ادویات اور دیگر ضروری طبی سامان تک رسائی نہ ہونے کے باعث ہونے والے مالی اور غیر مالی نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
جج مجید حسین زادہ نے کہا کہ عدالت میں مکمل سماعت اور قانونی کارروائی کے بعد حتمی فیصلہ جاری کیا گیا اور تمام قانونی مراحل مکمل ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد شروع کردیا گیا۔
امریکی تیل کی کھیپ ضبط کرکے فروخت
عدالت کے سربراہ کے مطابق، عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کے تحت 2023 میں خلیج فارس میں ایک امریکی تیل بردار جہاز کو ضبط کیا گیا۔ تیل کی کھیپ امریکی حکومت کی ملکیت ثابت ہونے کے بعد اسے قانونی ضوابط کے مطابق اتار کر فروخت کردیا گیا، جبکہ جہاز کو رہا کردیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم عدلیہ کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی، جس کے بعد عدالت نے رقم متاثرہ مریضوں میں تقسیم کرنے کا حکم جاری کردیا۔
عدالت کے حکم کے مطابق ’’ہاؤس آف ای بی‘‘ عدالتی حکام کی نگرانی میں مقدمے میں شامل ہر مریض کے اکاؤنٹ میں 2 کروڑ ایرانی تومان جمع کرائے گا اور رقم کی تقسیم سے متعلق مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کرے گا۔
عدالت کا امریکی پابندیوں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار
جج حسین زادہ نے کہا کہ عدالت نے یہ معلوم کرنے کے لیے ملکی اور بین الاقوامی اداروں، طبی ماہرین اور سماجی تنظیموں سے متعدد دستاویزات اور شواہد حاصل کیے کہ امریکی پابندیوں نے مریضوں کی ادویات اور طبی سامان تک رسائی کو کس حد تک متاثر کیا۔
انہوں نے کہا کہ سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ امریکی محکمہ خزانہ نے سخت پابندیوں اور مالی لین دین پر قدغنوں کے ذریعے ادویات اور خصوصی طبی پٹیاں تیار کرنے والی کمپنیوں کو ایران کو ضروری سامان فراہم کرنے سے روکا۔
ان کے مطابق، ضروری علاج اور طبی سہولیات تک رسائی روکنا صحت اور علاج کے بنیادی انسانی حق کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جج حسین زادہ نے بتایا کہ تہران کی عدالت نے 100 سے زائد صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں امریکی حکومت کے اقدامات کو غیر انسانی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے متاثرہ مریضوں کے نقصانات کے ازالے کا حکم دیا۔
تھیلیسیمیا کے مریضوں کو بھی ہرجانہ ملے گا
تہران کی بین الاقوامی امور کی عدالت کی شاخ 55 کے سربراہ نے کہا کہ پابندیوں سے متاثرہ شہریوں کے حقوق کی بحالی کا عمل جاری رہے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ای بی کے مریضوں کے نقصانات کے ازالے کے بعد تھیلیسیمیا اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ان مریضوں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر ہرجانہ دیا جائے گا جنہوں نے امریکی پابندیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے۔
ان کے مطابق، آئندہ یہ رقوم امریکا سے متعلق ضبط کی جانے والی اور فروخت ہونے والی املاک سے حاصل ہونے والی آمدنی سے ادا کی جائیں گی۔
آپ کا تبصرہ